Channel:

Sahil A. Podcast

Sail Adeem reading poetry of his father Adeem Hashmi

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا

بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے

رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ

ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے

میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی

اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے مجھے

غذا اسی میں مری میں اسی زمیں کی غذا

صدا پھر آتی ہے کیوں پردۂ خلا سے مجھے

میں جی رہا ہوں ابھی اے زمین آدم خور

ابھی تو دیکھ نہ تو اتنی اشتہا سے مجھے

بکھر چکا ہوں میں اب مجھ کو مجتمع کر لے

تو اب سمیٹ بھی اپنی کسی صدا سے مجھے

میں مر رہا ہوں پھر آئے صدائے کن فیکوں

بنایا جائے مٹا کے پھر ابتدا سے مجھے

میں سر بہ سجدہ ہوں اے شمرؔ مجھ کو قتل بھی کر

رہائی دے بھی اب اس عہد کربلا سے مجھے

میں کچھ نہیں ہوں تو پھر کیوں مجھے بنایا گیا

یہ پوچھنے کی اجازت تو ہو خدا سے مجھے

میں ریزہ ریزہ بدن کا اٹھا رہا ہوں عدیمؔ

وہ توڑ ہی تو گیا اپنی التجا سے مجھے

……………………………………………
Video Credits: @ASimpleArgument

For More Videos of Sir Sahil Adeem Subscribe to his Channels @ASimpleArgument and @SahilAdeem
……………………………………………
#SahilAdeem #SahilAdeemMotivationalSpeaker #asimpleargument #MotivationandInspiration

Category:

Sahil A. Podcast

Comments are closed.